ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی اسمبلی حلقے میں سیاسی گہماگہمی شروع ؛ کون کتنے پانی میں !!

چنتامنی اسمبلی حلقے میں سیاسی گہماگہمی شروع ؛ کون کتنے پانی میں !!

Sat, 23 Sep 2017 10:15:10    S.O. News Service

چنتامنی،23؍ستمبر(سید اسلم پاشاہ؍ایس او نیوز)پچھلے 2014کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر  بنگلور کوندلہلی گاؤں سے سماجی خدمت کے نام پر آکر سماجی خدمت کا آغاز کرکہ جے کے کرشناریڈی نے جنتادل(ایس)سے ٹکٹ حاصل کرلی 2013اسمبلی انتخابات میں چنتامنی حلقے سے کامیاب ہوگئے اب پھر سے اُسی کوندلہلی گاؤں کے مقیم ٹی سی وینکٹیش ریڈی نامی شخص سماجی خدمت کے نام پرچنتامنی سیاسی حلقے میں داخل ہوکر سماجی خدمت کا آغاز بھی کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ کولار کے رُکن پارلیمان و سابق وزیر کے ہیچ منی اپا نے ہی وینکٹیش ریڈی کو کانگریس پارٹی سے اسمبلی انتخابات کیلئے چنتامنی اسمبلی حلقے سے کانگریس پارٹی سے ٹکٹ دلانے کا بھروسہ دلاکر بھیجاہے لیکن رُکن پارلیمان کے ہیچ منی اپا کا کہنا ہے کہ میں نے کسی کو بھی ٹکٹ دلانے کا بھروسہ نہیں دلایا ہے۔ ان کے مطابق  ٹکٹ دلانے کا فیصلہ ہائی کمانڈ کا ہے۔

2018کے اسمبلی انتخابات قریب ہیں، یہاں پچھلے دو سالوں سے سماجی خدمت کے نام پر ارون بابو تعلقہ کے ہر قریہ میں جاکر اپنے آپ کو یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ میں ہی بی جے پی پارٹی کا امیدوار ہوں مجھے ہی اسمبلی انتخابات کے لئے چنتامنی حلقے سے ٹکٹ دیا جائیگا۔ بتایاجارہا ہے کہ ارون بابو کو بی جے پی پارٹی  ٹکٹ ملنا کافی مشکل  ہے ان کی جگہ پر دوسرا مضبوط امیدوار  چنتامنی اسمبلی حلقے میں اترنے کے لئے بی جے پی کے اعلیٰ لیڈران کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہاں بی جے پی پارٹی بہت ہی کمزور ہے ۔

پچھلے دو ماہ سے سے چنتامنی حلقے میں کانگریس امیدوار کا اعلان کرتے آئے وینکٹیش ریڈی تعلقہ کے مختلف مندروں کا دورۂ کرکے  تعلقہ کے مختلف سیاسی لیڈروں کے مکانوں تک جاکر ان سے  ملاقات کرکے اپنی ایک شناخت بنانے کی کوشش میں لگے  ہوئے ہیں ،جبکہ  بی جے پی کے کئی کارکنان وینکٹیش ریڈی سے ملاقات کرکے  کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے وینکٹیش ریڈی کہہ رہے ہیں کہ ہائی کمانڈ سے اُنہیں چنتامنی اسمبلی حلقے سے انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دینے کا گرین سگنل دیا گیا ہے ۔

اب چنتامنی حلقے کے سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھاکر کے بارے میں کہا جائے توپچھلے کچھ روز قبل کے پی سی سی دفتر میں چکبالاپور ضلع پنچایت صدر کو تبدیل کرنے کیلئے میٹنگ منعقد تھی اُس میٹنگ میں سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھاکر سمیت ضلع کے کانگریس لیڈراکھٹا ہوئے تھیں اس میٹنگ کے دوران سابق وزیر و رُکن پارلیمان کے ہیچ منی اپااور سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھاکر کے بیچ لفظی جھڑپ ہوگئی تھی،  وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مداخلت کرتے ہوئے معاملے کو  رفع دفع کیا تھا،مگر کہا جارہا ہے کہ ابھی بھی دونوں کے درمیان اختلافات باقی ہیں۔

باتیں گرم ہیں کہ سابق رُکن اسمبلی کو 2018کے اسمبلی انتخابات میں شکست دلان کے لئے کے ہیچ منی اپا نے ایڑی چوٹ کا زور لگایا تھا اسی طرح  کانگریس پارٹی سے سابق رُکن اسمبلی سدھاکر کو ٹکٹ نہ دلانے کیلئے بھی ایڑی چوٹ کا زور لگایا جارہا ہے،  لیکن سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھاکرنے  ٹکٹ ملنے کے تعلق سے کچھ بتانے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اور انہوں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ پچھلے  پارلیمانی انتخابات میں کے ہیچ منی اپا کو ہرانے کے لئے چنتامنی حلقے کے سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھا کر نے ایڑی چوٹ کا زور لگایا تھا، اور  جنتادل(ایس)کے امیدوار کیشوا کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی تھی۔ لیکن اُن کی وہ کوشش ناکام ہوگئی ۔لوک سبھا انتخابات ختم ہونے کے کچھ ہی  دنوں بعد ایم ایل سی انتخابات ہوئے تھے،  اُس وقت کے ہیچ منی اپا نے اپنے قریبی ساتھی انیل کمار کو کانگریس پارٹی سے ٹکٹ دلائی تھی ،  اُس وقت بھی بتایا گیا تھا کہ سابق رُکن اسمبلی سدھاکر  نے جنتادل (ایس) امیدوار منوہر کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی تھی اور منوہر کو  کامیاب کرایا تھا ۔

پھر 2016میں ضلع پنچایت و تعلقہ پنچایت کے انتخابات کا اعلان ہوا اُس وقت کے ہیچ منی اپا نے سابق رُکن اسمبلی سدھاکر کو منا کر وزیر ڈی کے شیوکمار کی زیر سرپرستی میں کے ہیچ منی اپا نے سابق رُکن اسمبلی سدھاکر کو کانگریس پارٹی میں شامل کرایا اور کے ہیچ منی اپا و سابق رُکن اسمبلی ڈاکٹر ایم سی سدھاکر دونوں نے  مل کر تعلقہ پنچایت و ضلع پنچایت  انتخابات میں خوب محنت کرکے بھاری اکثریت سے امیدواروں کو کامیاب بنایا تھا ۔اب پھر سے کے ہیچ منی اپاو سابق رُکن اسمبلی سدھاکر کے بیچ اختلافات عروج پر ہیں۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ  سابق رُکن اسمبلی سدھاکر کانگریس پارٹی میں ہی رہیںگے یا نہیں اور کیا  ان کو  کانگریس پارٹی سے ٹکٹ ملے گا  بھی یا نہیں۔۔۔


Share: